Tuesday, March 10, 2020

ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ : ﺟﺎﺅ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﮯ ﺁﺅ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﯿﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ، ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ . ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ

ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ : ﺟﺎﺅ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﮯ ﺁﺅ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﯿﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ
ﮐﯽ ﻧﻈﺮﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ، ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ .
ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﮐﮩﺎﮞ
ﺭﮦ ﮔﯿﺎ، ﺁﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ

ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ، ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺍﺭﮮ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﻛﻲ ؟ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮍﺍ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﺁﻧﺎ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻢ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ
ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮ، ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ : ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ .
ﺑﺎﭖ : ﮐﯿﺎ ﭘﺎﮔﻞ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ ﺗﻢ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﻮﺩﺍ ﻟﯿﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﻮﺩﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ .
ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﺑﺎﺑﺎ ! ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ .
ﺑﺎﭖ ﺑﻮﻻ : ﺗﻮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﺎﺵ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮫ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ! ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺑﺎ ! ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮞ؟
ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﻮﻻ : ﭼﻞ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﮮ،
ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺭﻭﺯ ﻧﺒﯽ ﺍﮮ ﺭﺣﻤﺖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮧ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ .
ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﮩﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻟﮍﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﻥ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮨﺎ، ﺍﺗﻨﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯿﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﮔﯿﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ
ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ، ﺁﭖ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺗﺘﻔﺎﻕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﭖ ﺩﻝ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﺍﻟﻤﺮﮒ ﮨﮯ ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺁﺭﺯﻭ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﻟﮯ ؟ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮬﺎ
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ،
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ! ﺍﭨﮭﻮ ، ﻋﻤﺮ ! ﺍﭨﮭﻮ، ﻋﻠﯽ ! ﭼﻠﻮ، ﭼﻠﯿﮟ ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ! ﺁﺅ، ﺑﺎﻗﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺁﺧﺮﯼ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ
ﮨﯿﮟ، ﭼﻠﻮ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﺗﮭﯿﮟ،
ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﮐﺮﻡ ﮨﯽ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺳﺖ ﺍﻗﺪﺱ ﺭﮐﮭﺎ، ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﯿﮟ، ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﯽ ﮨﻮ، ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻗﺖ ﺁ ﮔﺌﯽ، ﻧﺎﺗﻮﺍﻧﻲ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺋﯽ ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ، ﺭﺥ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ، ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ، ﻟﺐ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﮯ،
ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﺲ ! ﺍﺏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﻮ .
ﻟﮍﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ : ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻜﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺑﻮﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ( ﻣﺤﻤﺪ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﷺ ) ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﺮﻟﻮ .
ﻟﮍﮐﺎ ﺑﻮﻻ : ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ! ﷺ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ !
ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﺲ ﺗﻢ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﻮ ! ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﺟﺎﻧﮯ، ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮ، ﺟﺎﺅ ﺟﻨﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮯ، ﺟﻨﺖ ﻣﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ .
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ، ﺟﺐ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ " ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ " ﺭﻭﺡ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ، ﻛﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﻟﺐ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ،
ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻭﮦ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﻮﻻ :
ﻣﺤﻤﺪ ! ( ﷺ ) ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﮨﯿﮟ،
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ، ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮨﮯ، ﻛﺎﺷﺎﻧﮧ ﺍﮮ ﻧﺒﻮﺕ ﷺ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﭨﮭﮯ ، ﺗﺐ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮨﮯ، ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺍﺱ ﮐﻮ .
ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺻﺪﯾﻖ ! ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﻤﺮ ! ﺍﭨﮭﺎﻭ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ! ﺁﮔﮯ
ﺑﮍﮬﻮ ، ﺑﻼﻝ ! ﺁﺅ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ، ﻋﻠﯽ ! ﭼﻠﻮ ﺩﻭ ﮐﻨﺪﮬﺎ ، ﺳﺐ ﺍﭨﮭﺎﻭ ﺍﺳﮯ ،
ﺁﻗﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺟﺐ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ :
ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ،
ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ،
( ﺍﻟﻠﮧ ﻫﻮ ﺍﮐﺒﺮ ! ﮐﯿﺎ ﻣﻘﺎﻡ
ﮨﻮﮔﺎ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻋﻠﯽ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ، ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ، ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ، ﺑﻼﻝ ﺣﺒﺸﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﮩﻤﺎ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﮐﻨﺪﮬﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺁﮔﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﮨﻮﮞ )
ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ، ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﻫﻮﮮ ، ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ
ﻋﺎﺷﻖ ﮐﯽ ﻣﻴﺖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﺎﺭﺍ . ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮦ
ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺯﺭﺩﯼ ﭼﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺗﮭﻜﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ، ( ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻮ ﻏﻨﯽ )
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ : ﺣﻀﻮﺭ ! ﷺ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ؟
ﺁﭖ ﷺ ﭘﻨﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻠﺘﮯ ﺭﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﮐﺮﯾﻢ ﺁﻗﺎ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﮕﮧ ﻣﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ، ﻣﯿﮟ
ﭘﻨﺠﮧ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﭘﺎﺅﮞ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺎﺅﮞ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ .
ﭘﮭﺮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﺁﭖ ﷺ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﺌﮯ؟ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ، ﮨﻢ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ! ( ﺗﻮ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ )
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ
ﺗﮭﺎ ﻧﺎ ! ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻭﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺍﺳﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ .
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺍﺗﻨﮯ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ؟
ﺗﮭﮑﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﯿﮯ ﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺭﯾﮟ ﺍﺱ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﮯﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﻟﮓ ﻟﮓ ﮐﺮ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﮭﮏ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ .
:1 ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻮ ﺩﺍﺅﺩ : ﺟﻠﺪ : 3 ، / ﺻﻔﺤﮧ : 185 ، / ﺣﺪﯾﺚ : 3095 ،
:2 ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ : ﺟﻠﺪ : 3 ، / ﺻﻔﺤﻪ : 175 ، / ﺣﺪﯾﺚ : 12815 ،
ﺣﺎﻓﻆ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : ﻓﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ

Monday, March 9, 2020

حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم (ص) کو کیسے دیکھا؟

حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضور نبی کریم (ص) کو کیسے دیکھا؟

بلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکے کے لوگوں کو بہت ہی کم جانتا تھا۔ کیونکہ غلام تھا اور عرب میں غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا، انکی استطاعت سے بڑھ کے ان سے کام لیا جاتا تھا تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر نکل کے لوگوں سے ملوں، لہذا مجھے حضور پاک یا اسلام یا اس طرح کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔
ایک دفعہ کیا ہوا کہ مجھے سخت بخار نے آ لیا۔ سخت جاڑے کا موسم تھا اور انتہائی ٹھنڈ اور بخار نے مجھے کمزور کر کے رکھ دیا، لہذا میں نے لحاف اوڑھا اور لیٹ گیا۔ ادھر میرا مالک جو یہ دیکھنے آیا کہ میں جَو پیس رہا ہوں یا نہیں، وہ مجھے لحاف اوڑھ کے لیٹا دیکھ کے آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے لحاف اتارا اور سزا کے طور پہ میری قمیض بھی اتروا دی اور مجھے کھلے صحن میں دروازے کے پاس بٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ کے جَو پیس۔
اب سخت سردی، اوپر سے بخار اور اتنی مشقت والا کام، میں روتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہائت متین اور پر نور چہرے والا شخص اندر داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو؟ 
جواب میں میں نے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو، تمہیں اس سے کیا میں جس وجہ سے بھی روؤں، یہاں پوچھنے والے بہت ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا۔ 
قصہ مختصر کہ بلال نے حضور کو کافی سخت جملے کہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ جملے سن کے چل پڑے، جب چل پڑے تو بلال نے کہا کہ بس؟ میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا۔۔
حضور یہ سن کر بھی چلتے رہے۔۔ بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص کوئی مدد کرے گا وہ بھی گئی۔ لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اسکا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔
بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میں وہ شخص واپس آ گیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے میں کھجوریں تھیں۔ اس نے وہ کھجوریں اور دودھ مجھے دیا اور کہا کھاؤ پیو اور جا کے سو جاؤ۔
میں نے کہا تو یہ جَو کون پیسے گا؟ نہ پِیسے تو مالک صبح بہت مارے گا۔ اس نے کہا تم سو جاؤ یہ پسے ہوئے مجھ سے لے لینا۔۔
بلال سو گئے اور حضور نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لئے چکی پیسی۔
صبح بلال کو پسے ہوئے جو دیے اور چلے گئے۔ دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا، دودھ اور دوا بلال کو دی اور ساری رات چکی پیسی۔۔ ایسا تین دن مسلسل کرتے رہے جب تک کہ بلال ٹھیک نہ ہو گئے۔۔
یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی بلال کو صحابی ءِ رسول بعد میں، عاشقِ رسول پہلے کہا جاتا ہے۔
وہ بلال جو ایک دن اذان نہ دے تو خدا تعالی سورج کو طلوع ہونے سے روک دیتا ہے، اس نے حضور کے وصال کے بعد اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب اذان میں ’أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ تک پہنچتے تو حضور کی یاد میں ہچکیاں بندھ جاتی تھیں اور زار و قطار رونے لگتے تھے۔
ایثار اور اخوت کا یہ جذبہ اتنا طاقتور ہے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
دوستو...!!!چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....! 
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
               دوستوں کے ساتھ بھی شیر کریں۔ 
Fallow me and Share it with friends.


گورنر کا محاسبہ: سینہ چیر دینے والا واقعہ _!!

حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک علاقے کے گورنر تھے، اس وقت امیر المومنین شہر کی جامع مسجد میں جاتے اور عام لوگوں سے گورنر کی بابت پوچھتے تھےکہ لوگوں تمھیں گورنر سے کوئ شکایت تو نہیں؟ جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سعید بن عامر کی بابت لوگوں سے پوچھا کہ گورنر سے کوئ شکایت تو نہیں تو لوگوں نے جواب دیا چار شکایتیں ہیں۔ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے گورنر کو بلایا اور فرمایا چار شکایتیں ہیں لوگوں کو آپ سے؟ (1 ) پہلی یہ کہ آپ لوگوں سے فجر کے وقت نہیں ملتے اشراق کے وقت ملتے ھیں۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میری بیوی جس نے تیس سال میری خدمت کی اب بیماری کی وجہ سےوہ معزور ھوگئی ہے میں صبح نماز پڑھ کر اپنی بیوی کو ناشتہ بنا کر دیتا ہوں اسکے کپڑے دھوتا ہوں اسکا پاخانہ صاف کرتا ہوں اسلئے دیر ہوجاتی ہے لوگوں سے ملنے میں۔ ابھی جب لوگوں نے پہلی شکایت کا جواب سنا تو انکے رونگٹے کھڑے ھوگئے۔ (2) دوسری شکایت یہ ھے کہ آپ ہفتے میں ایک دن ملتے نہیں لوگوں سے؟ سعید بن عامر بولے میں اسکا جواب ہرگز نہ دیتا اگر پوچھنے والے آپ نہ ھوتے بہرحال بتا دیتا ھوں میں گورنر ضرور ھوں لیکن بہت غریب ھوں۔ میرے پاس یہی ایک جوڑا کپڑا ہے جسے میں ہفتے میں ایک دن دھوتا ہوں پھر سوکھنے تک میں اپنی بیوی کے کپڑے پہنتا ہوں اسلیے لوگوں کے سامنے نہیں آتا۔ اس دن یہ سن کر عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے اور سعید بن عامر کے بھی آنسو جاری ھوگۓ۔ (3) تیسری شکایت یہ کہ آپ رات کو ملتے نہیں؟ سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بولےسارا دن مخلوق کی خدمت کرتا ھوں میری داڑھی سفید ہو چکی ھے مطلب کہ کسی وقت بھی مالک کا بلاوا آسکتا ہے اسلئے پوری رات اس رب زوالجلال کی عبادت کرتا ہوں کہ کہیں حشرکےدن کو رسوا نہ ھو جاؤں۔ ( 4 )چھوتھی شکایت ان لوگوں کی یہ ہے کہ آپ بے ہوش کیوں ہو جاتے ہیں۔ سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بولے میں چالیس سال کی عمر میں مسلمان ھوا ان چالیس سالوں کے گناہ یاد کرکے روتا ہوں کہ کیا پتا میرا مالک مجھے بخشے گا بھی یا نہیں۔ بس خشیت الہی سے میں بے ہوش ہو جاتا ہوں۔ اے عمر رضی اللہ عنہ ان شکایتوں کے نتیجے میں جو میری سزا بنتی ہے مجھےدے دو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اٹھ گئے اور رب سے التجا کی کہ یا اللہ اس طرح کے کچھ اور گورنر مجھے عطا فرما مجھے ان پر فخر ہے...!!

Sunday, March 8, 2020

URDU ISLAMIC STORIES شاہ اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ

شاہ اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔۔!!!
کچھ لڑکیاں سب سے بے نیاز اپنی اداؤں سے سب کو گھائل کرتی مدرسہ عزیزیہ کے سامنے سے گزر رہی تھیں کہ حضرت شاہ محمد اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ کی نظر ان پر پڑ گئی۔
حضرت نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون ہیں؟ ساتھیوں نے بتایا کہ یہ طوائفیں ہیں اورکسی ناچ رنگ کی محفل میں جا رہی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب نے فرمایا. اچھا یہ تو بتاؤ کہ یہ کس مذھب سے تعلق رکھتی ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ یہ دین اسلام ہی کو بدنام کرنے والی ہیں. اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں۔
شاہ صا حب نے جب یہ بات سنی تو فرمایا:
مان لیا کہ بدعمل اور بدکردار ہی سہی لیکن کلمہ گو ہونے کے ناطے ہوئیں تو ہم مسلمانوں کی بہنیں ہی. لہٰذا ہمیں انھیں نصیحت کرنی چا ہیے، ممکن ہے گناہ سے باز آجائیں...
ساتھیوں نے کہا ان پر نصیحت کیا خاک اثر کرے گی؟ انہیں نصیحت کرنے والا تو الٹا خود بدنام ہو جائے گا
شاہ صاحب نے فرمایا: تو کیا ہوا؟. میں تو یہ فریضہ ادا کر کے رہوں گا خواہ کوئی کچھ سمجھے!
ساتھیوں نے عرض کیا۔ حضرت! آپ کا ان کے پاس جانا قرین مصلحت نہیں ہے. آپ کو پتا ہے کہ شہر کے چاروں طرف آپ کے مذہبی مخالفین ہیں. جو آپ کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے..
آپ نے فرمایا مجھے ذرہ بھر پروا نہیں. میں انہیں ضرور نصیحت کرنے جاؤں گا!
اس عزم صمیم کے بعدآپ تبلیغ حق و اصلا ح کا عزم صادق لے کر گھر تشریف لائے. درویشانہ لباس زیب تن کیا اور تن تنہا نائیکہ کی حویلی کے دروازے پر پہنچ کر صدا لگائی..
اللہ والیو! دروازہ کھولو اور فقیر کی صدا سنو!
آپ کی آواز سن کر چند لڑکیاں آئیں. دروازہ کھولا تو دیکھا باہر درویش صورت بزرگ کھڑا ہے...
انھوں نے سمجھا کہ کوئی گداگر فقیر ہے سو چند روپے لا کر تھما دیے، لیکن اس نے اندر جانے پر اصرار کیا اور پھر اندر چلے گئے۔
شاہ صاحب نے دیکھا کہ چاروں طرف شمعیں اور قندیلین روشن ہیں. طوائفیں طبلے اور ڈھولک کی تھاپ پر تھرک رہی ہیں. ان کی پازیبوں اور گھنگھروؤں کی جھنکار نے عجیب سماں باندھ رکھا ہے..
جونہی نائیکہ کی نگاہ اس فقیر بے نوا پر پڑی اس پرہیبت طاری ھو گئی..
وہ جانتی تھی کہ اس کے سامنے فقیرانہ لباس میں گداگر نہیں بلکہ شاہ اسماعیل کھڑے ہیں. جو حضرت شاہ ولی اللہ کے پوتے اور شاہ عبدالعزیز، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر کے بھتیجے ہیں..
نائیکہ تیزی سے اپنی نشست سے اٹھی اور احترام کے ساتھ ان کے سامنےجا کھڑی ہوئی. بڑے ادب سے عرض کیا:
حضرت آپ نے ہم سیاہ کاروں کے پاس آنے کی زحمت کیوں کی؟. آپ نے پیغام بھیج دیا ہوتا تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتیں!
آپ نے فرمایا: بڑی بی تم نے ساری زندگی لوگوں کو راگ و سرور سنایا ہے. آج کچھ دیر ہم فقیروں کی صدا بھی سن لو!
جی سنائیے ہم مکمل توجہ کے ساتھ آپ کا بیان سنیں گی!
یہ کہہ کر اس نے تمام طوائفوں کو پازیبیں اتارنے اور طبلے ڈھولکیاں بند کرکے وعظ سننے کا حکم دے دیا..
وہ ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ گئیں۔
شاہ اسماعیل (رحمہ اللہ) نے حمائل شریف نکال کر سورۃ التين تلاوت فرمائی، آپ کی تلاوت اس قدر وجد آفریں اور
پرسوز تھی کہ طوائفیں بے خود ہو گئیں...
اس کے بعد آپ نے آیات مبارکہ کا دلنشین رواں ترجمہ بیان فرمایا، یہ خطاب زبان کا کانوں سے خطاب نہ تھا بلکہ یہ دل کا دلوں سے اور روح کا روحوں سے خطاب تھا. یہ خطاب دراصل اس الہام ربانی کا کرشمہ تھا جو شاہ صاحب جیسے مخلص دردمندوں اور امت مسلمہ کے حقیقی خیرخواہوں کے دلوں پر اترتا ہے!
جب طوائفوں نے شاہ صاحب کے دلنشین انداز میں سورت کی تشریح سنی تو ان پر لرزہ طاری ہو گیا. روتے روتے اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
شاہ صاحب نے جب ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑیاں دیکھیں تو انہوں نے بیان کا رخ توبہ کی طرف موڑ دیا اور بتایا کہ جو کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر اللہ سے اس کی معافی مانگ لے تو اللّٰہ بڑا رحیم ہے. وہ معاف بھی کر دیتا ہے بلکہ اسے تو اپنے گنہگار اور سیاہ کار بندوں کی توبہ سے بے حد خوشی ہوتی ہے..
آپ نے توبہ کے اتنے فضائل بیان کیے کہ ان کی سسکیاں بندھ گئیں...
کسی ذریعے سے شہر والوں کو اس وعظ کی خبر ہو گئی. وہ دوڑے دوڑے آئے اور مکانوں کی چھتوں دیواروں چوکوں اور گلیوں میں کھڑے ہو کر وعظ سننے لگے، تاحدِنگاہ لوگوں کے سر ہی سر نظر آنے لگے!
شاہ صاحب نے انھیں اٹھ کروضو کرنے اور دو رکعت نوافل ادا کرنے کی ہدایت کی۔
راوی کہتا ہے کہ جب وہ وضو کر کے قبلہ رخ کھڑی ہوئیں اور نماز کے دوران سجدوں میں گریں تو شاہ صاحب نے ایک طرف کھڑے ہو کر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے اور عرض کیا:
اے مقلب القلوب!
اے مصرف الاحوال!
میں تیرے حکم کی تعمیل میں اتنا کچھ ہی کر سکتا تھا یہ سجدوں میں پڑی ہیں، تو ان کے دلوں کو پاک کر دے، گناہوں کو معاف کردے اور انہیں آبرومند بنا دے تو تیرے لیے کچھ مشکل نہیں،ورنہ تجھ پر کسی کا زور نہیں، میری فریاد تو یہ ہے کہ انھیں ہدایت عطا فرما انھیں نیک بندیوں میں شامل فرما!
ادھر شاہ صاحب کی دعا ختم ہوئی اور ادھر ان کی نماز...
وہ اس حال میں اٹھیں کہ دل پاک ہو چکے تھے!
اب شاہ صاحب نے عفت مآب زندگی کی برکات اور نکاح کی فضیلت بیان کرنی شروع کی اور اس موضوع کو اس قدر خوش اُسلوبی سے بیان کیا کہ تمام طوائفیں گناہ کی زندگی پر کفِ افسوس کرنے لگیں اور نکاح پر راضی ہو گئیں. چنانچہ ان میں سے جوان عورتوں نے نکاح کرا لیے اور ادھیڑ والیوں نے گھروں میں بیٹھ کر محنت مزدوری سے گزارا شروع کر دیا۔
کہتے ہیں کہ ان میں سے سب سے زیادہ خوبصورت موتی نامی خاتون کو جب اس کے سابقہ جاننے والوں نے شریفانہ حالت اور سادہ لباس میں مجاہدین کے گھوڑوں کے لیے ہاتھ والی چکی پر دال پیستے دیکھا تو پوچھا:
وہ زندگی بہتر تھی جس میں تو ریشم و حریر کے ملبوسات میں شاندار لگتی اور تجھ پر سیم وزرنچھاور ہوتے تھے یا یہ زندگی بہتر ہے جس میں تیرے ہاتھوں پر چھالے پڑےہوئے ہیں؟
کہنے لگی اللہ کی قسم! مجھے گناہ کی زندگی میں کبھی اتنا لطف نہ آیا جتنامجاہدین کے لیے چکی پر دال دلتے وقت ہاتھوں میں ابھرنے والے چھالوں میں کانٹے چبھو کر پانی نکالنے سے آتا ہے!


*ﻧﮉﺭ ﺗﮭﺎ،*
*ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺗﮭﺎ، ﺗﺎﺟر ﺗﮭﺎ، ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﺎ،*
ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ،
*ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﷺ* ﻣﯿﮟ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ

*،ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ* ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ،، ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﮦ، ﻟﻤﺒﺎ ﻗﺪ، ﺗﻮﺍﻧﺎ ﺟﺴﻢ، ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺳﯿﻨﮧ، ﺍﮐﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺮﺩﻥ، ﺍﭨﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ، ایک حسین جوان ہے …

ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،

ﺳرکار دوعالم ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ، فرمایا :ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ؟

ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻮﻻ :
ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮﮞ؟۔

ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
: ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮨﻮ؟

ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ، ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺷﮧ، ﺟﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮ ﻟﻮ،

ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
 ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﻣﺰﺍﺝ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ،
ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ؟

ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
*ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ*
 ! ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺩﮐﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺫﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ صحیح،

ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ :
ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﺟﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ،۔

*حضرت ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ( رضی اللّٰہ* )ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﺳﻠﻮﭨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ،
ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﺎ،
ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺍﺑﺮﻭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮨﻮ،
حضرت ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮨﻮﮞ،
ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ؟

ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ،
ﺟﺘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﮨﮯ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ …

ﺛﻤﺎﻣﮧ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺪ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ( ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ )

ﻟﻮﮔﻮ !
ﯾﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﺟنﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ہم ﻧﮯ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﮯ،
تب۔۔۔۔۔۔ تھا، ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﺋﯽ، ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﯽ،

ﺁﺝ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ہیں ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯽ ﺳنتے ہیں ﻟﯿﮑﻦ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈالتے ہیں …ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ،

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﻡ ﻭ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻭ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﻣﮕﺮ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﺑﺴﺘﯽ ﮨﮯ ( ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ )
ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ؟

ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ فرمایا :
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ،
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﻮﺍﺏ،

ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﷺ ﺁﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮨﻢ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ، ﺫﺭﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﻟﻮ،۔
ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﺍﺏ؟

ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﻣﺴﮑﺮﺍ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺟﺎﺅ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺅ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍسے ﺭﮨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ،

ﺟﺎﺅ …ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﯿﮟ،

ﺍن سے فرمایا :
ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ہے ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ،
ﺑﮍﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ،
ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

مگر
ﺍﺗﻨﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ،
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ …”
ﺑﺲ ﺍﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ “

ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺮﭘﭧ ﺑﮭﺎﮔﺎ، ﺩﮌﮐﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ….. !

ثمامہ کہتے ہیں
کہ :” ﻗﺪﻡ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ “
ﺩﻭ ﻣﯿﻞ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺁﯾﺎ

،ﻭﮦ ﻣﺎﮦ ﺗﻤﺎﻡ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ کرام ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩھے ہوئے تھے

….ﺻﺤﻦ ﻣﺴﺠﺪ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ….
*ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ صلی اللہ علیہ وسلم* ﻧﮯ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﯽ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ،

ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺁ ﮔﺌﮯ

؟ﮐﮩﺎ،
*ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ، ”*
*ﮐﯿﺎ ﺍﺳﯿﺮﯼ ﮨﮯ اور ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ”*

 *ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﺐ ﺗﮭﺎ*
*ﺟﺐ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ،*
*ﺍﺏ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ،*
*ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐا* *ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ سبحان اللّہ*

*تیری صورت تیری سیرت زمانے سے نرالی ہے*
*تیری ہر ہر ادا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے*
..
ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر
اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ
اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ،

اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو. ..
منقول